میرے عزیز دوستو! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے والے ہیں جو ہم سب کی زندگیوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے، جی ہاں، صحت عامہ اور ویکسین ریسرچ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیسے سائنسدان دن رات ایک کرکے ہمیں خطرناک بیماریوں سے بچانے کے لیے محنت کرتے ہیں؟ مجھے یاد ہے جب بچپن میں پولیو کی بوندیں پلائی جاتی تھیں، تب ہمیں اس کی اہمیت کا اتنا اندازہ نہیں تھا۔ مگر آج کے دور میں، خاص کر پچھلے چند سالوں میں، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی وبا بھی پوری دنیا کو ہلا سکتی ہے۔ ایسے میں، ویکسین کی اہمیت اور اس پر ہونے والی تحقیق کی قدر و قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ یہ صرف بیماریوں سے بچاؤ نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز اور جدید تحقیق کی بدولت اب ہم کینسر اور دوسری لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کے خلاف بھی ویکسینز کی امید لگا سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک زیادہ محفوظ دنیا میں سانس لیں گی۔ آئیے، اس حیرت انگیز دنیا کے بارے میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں۔
ویکسینز کی دنیا: ایک انقلابی سفر

ماضی سے حال تک: ویکسین کی کہانی
دوستو، اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ انسانیت کی سب سے بڑی سائنسی کامیابیاں کیا ہیں، تو ویکسینز کا نام ان میں سرفہرست آئے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میرے نانا ابو پولیو کے بارے میں بتاتے تھے کہ کیسے یہ بیماری بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر دیتی تھی۔ وہ وقت تھا جب سائنسدانوں نے چیچک جیسی مہلک بیماری کو دنیا سے مٹا کر ایک ناقابل یقین کارنامہ انجام دیا۔ ایڈورڈ جینر کے چیچک ویکسین کے اس انقلابی قدم نے گویا انسانی تاریخ کا دھارا ہی موڑ دیا تھا۔ یہ محض ایک انجیکشن یا دو قطرے نہیں، بلکہ لاکھوں جانوں کو بچانے اور کئی نسلوں کو بیماریوں کے خوف سے آزاد کرنے کا ایک سفر تھا۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے ایک چھوٹے سے خیال نے اتنی بڑی تبدیلیاں لائیں۔ آج ہم آسانی سے اپنے بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ویکسین لگوا لیتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے صدیوں کی محنت، ہزاروں سائنسدانوں کی قربانیاں اور لاتعداد تحقیق شامل ہے۔ یہ سفر آج بھی جاری ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ مزید ترقی کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ اتنا خودکار اور آسان لگنے لگا ہے کہ ہم شاید اس کی قدر کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح پچھلی نسلوں کو چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے کتنا خطرہ لاحق رہتا تھا اور اب ہم کتنے محفوظ ہیں۔ یہ واقعی ایک انقلابی سفر ہے جو ابھی تک جاری ہے۔
جدید سائنس اور ویکسین کا ارتقاء
آج کے دور میں ویکسین ریسرچ کا میدان پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اب صرف بیماریوں سے بچاؤ کی بات نہیں رہی، بلکہ جدید سائنس نے ویکسین کو ایک نئے ارتقائی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں میڈیکل سائنس کے معجزے روز مرہ کا حصہ بن رہے ہیں۔ اب سائنسدان صرف متعدی امراض کے لیے ہی نہیں، بلکہ کینسر اور دیگر کئی لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کے لیے بھی ویکسینز پر کام کر رہے ہیں۔ mRNA ٹیکنالوجی نے تو جیسے ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ سوچ کر ہی دل خوش ہوتا ہے کہ ہمارے بچے شاید کینسر جیسی بیماریوں کے خلاف بھی ویکسینیشن کروا سکیں گے۔ پچھلے چند سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح دنیا بھر کے سائنسدانوں نے ریکارڈ وقت میں ایک نئی وباء کے خلاف ویکسین تیار کی، اور یہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہی کمال تھا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب انسانیت متحد ہو کر کسی مقصد کے لیے کام کرتی ہے، تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی بونا پڑ جاتا ہے۔ یہ ارتقاء ہمیں صرف تحفظ ہی نہیں دے رہا، بلکہ ایک امید بھی دے رہا ہے کہ ہم مزید صحت مند اور طویل زندگی گزار سکیں گے۔
بیماریوں سے بچاؤ کی ڈھال: ویکسین کیسے کام کرتی ہیں؟
جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانا
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ چھوٹی سی سوئی یا چند قطرے ہمارے جسم میں جا کر ایسا کیا کر دیتے ہیں کہ ہم بڑے بڑے جرثوموں سے محفوظ ہو جاتے ہیں؟ مجھے تو یہ کسی جادو سے کم نہیں لگتا۔ اصل میں، ویکسین ہمارے جسم کے اپنے “دفاعی نظام” کو تربیت دیتی ہے۔ یہ ایک طرح کی “ماسٹر کلاس” ہے جو ہمارے جسم کو سکھاتی ہے کہ اگر کوئی حملہ آور (جراثیم) آئے تو اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ ویکسین میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کا کمزور یا مردہ حصہ شامل ہوتا ہے، جو اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ ہمیں بیمار کر سکے، لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ ہمارا جسم اسے پہچان کر اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنا لے۔ یہ اینٹی باڈیز ہمارے جسم میں ایک طرح کی یادداشت بنا لیتی ہیں، بالکل ایسے جیسے آپ کسی امتحان کی تیاری کریں۔ جب حقیقی جراثیم حملہ آور ہوتا ہے تو ہمارا دفاعی نظام اسے فوری طور پر پہچان لیتا ہے اور پہلے سے تیار اینٹی باڈیز کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے، یوں ہم بیماری سے بچ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار مجھے ذاتی طور پر بہت متاثر کن لگتا ہے، کیونکہ یہ ہمارے جسم کی قدرتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں محفوظ رکھتا ہے۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ یہ کیسے ہوتا ہے، اور جب سمجھ آیا تو واقعی انسانی جسم کی اس صلاحیت پر حیرت ہوئی۔
مختلف اقسام کی ویکسینز
ویکسینز بھی ایک طرح کی نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور ہر قسم اپنے انداز میں کام کرتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں پولیو کے قطرے پلاتے تھے، وہ ایک خاص قسم کی ویکسین تھی۔ اس کے بعد بڑے ہو کر ٹیٹنس کا انجیکشن لگوایا۔ یہ سب مختلف طریقوں سے ہمیں محفوظ رکھتے ہیں۔ کچھ ویکسینز میں زندہ لیکن کمزور جراثیم ہوتے ہیں (جیسے خسرہ، روبیلا)، جو جسم میں جا کر ہلکا سا ردعمل پیدا کرتے ہیں اور مضبوط قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں۔ کچھ میں مردہ جراثیم استعمال ہوتے ہیں (جیسے فلو ویکسین کی کچھ اقسام)، جو جسم کو بیماری پیدا کیے بغیر پہچان کراتے ہیں۔ پھر کچھ ویکسینز ایسی ہوتی ہیں جو صرف جراثیم کے کسی مخصوص حصے (پروٹین یا زہر) کو استعمال کرتی ہیں (جیسے ٹیٹنس، کالی کھانسی)۔ اور اب تو mRNA ویکسینز بھی آ گئی ہیں، جنہوں نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ یہ ویکسینز ہمارے جسم کو بتاتی ہیں کہ مخصوص پروٹین کیسے بنانا ہے جو جراثیم سے ملتا جلتا ہو، اور یوں ہمارا جسم خود اینٹی باڈیز تیار کر لیتا ہے۔ یہ سب سننے میں شاید پیچیدہ لگے، لیکن اس کا نتیجہ بہت آسان ہے: بیماری سے بچاؤ۔ مجھے یہ جان کر بہت تسلی ہوتی ہے کہ سائنسدان مختلف بیماریوں کے لیے مختلف بہترین حل تلاش کر رہے ہیں۔
سائنسی کرشمہ: نئی ویکسینز کی تیاری کے چیلنجز
تحقیق سے منظوری تک کا طویل راستہ
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک نئی ویکسین ہم تک پہنچنے میں کتنا وقت اور محنت لیتی ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ایک پہاڑ سر کرنے کے مترادف ہے۔ جب ہم ٹی وی پر یا انٹرنیٹ پر نئی ویکسین کی خبر دیکھتے ہیں، تو اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے سالوں کی ریسرچ اور بے شمار سائنسی مراحل ہیں۔ یہ ایسا نہیں کہ آج خیال آیا اور کل ویکسین تیار ہو گئی۔ اس میں سب سے پہلے تجربہ گاہوں میں تحقیق ہوتی ہے، پھر جانوروں پر تجربات ہوتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ محفوظ اور مؤثر ہے یا نہیں۔ اس کے بعد انسانی ٹرائلز کے کئی مراحل ہوتے ہیں، جن میں ہزاروں افراد کو شامل کیا جاتا ہے۔ ان ٹرائلز میں ویکسین کی حفاظت، افادیت اور ممکنہ ضمنی اثرات کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ بہت محتاط اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ویکسین عوام کو دی جا رہی ہے وہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس عمل کی پیچیدگی ہمیشہ متاثر کرتی ہے کہ کیسے یہ سب اتنے سخت پروٹوکولز کے تحت انجام پاتا ہے۔ ایک ذرا سی غلطی بھی پوری محنت کو ضائع کر سکتی ہے۔ یہ واقعی ایک طویل اور صبر آزما راستہ ہے جو بہت کم لوگ ہی مکمل کر پاتے ہیں۔
کینسر اور لاعلاج بیماریوں پر تحقیق
وہ وقت دور نہیں جب شاید کینسر کا نام بھی ماضی کی بات ہو گا۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی دل جھوم اٹھتا ہے! آج سائنسدان صرف متعدی امراض ہی نہیں، بلکہ کینسر اور کئی دوسری لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کے خلاف بھی ویکسینز پر تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سائنسی چیلنج ہے، کیونکہ کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کی کئی اقسام ہیں۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی، خاص کر جینیاتی تحقیق اور ایم آر این اے ٹیکنالوجی نے نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے کینسر ویکسین کا تصور بھی ایک خواب لگتا تھا، مگر اب یہ حقیقت کے بہت قریب ہے۔ کچھ ویکسینز تو اب مارکیٹ میں آ بھی چکی ہیں جو کینسر کی کچھ اقسام (جیسے ہیومن پیپیلوما وائرس – HPV سے ہونے والا کینسر) کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ تحقیق صرف بچاؤ پر ہی نہیں، بلکہ کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھی مرکوز ہے، یعنی علاجاتی ویکسینز (therapeutic vaccines)۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ہم مزید ایسی کامیابیاں دیکھیں گے جو انسانیت کی صحت کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کریں گی۔ یہ واقعی ایک کرشمہ ہے جو سائنسدان اپنی محنت سے ممکن بنا رہے ہیں۔
آگے کی راہ: مستقبل کی ویکسینز اور ہماری امیدیں
mRNA ٹیکنالوجی: ایک نئی صبح
اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ویکسین ریسرچ کا سب سے دلچسپ موڑ کیا ہے تو میں فوراً mRNA ٹیکنالوجی کا نام لوں گا۔ پچھلے چند سالوں میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح اس ٹیکنالوجی نے ایک عالمی وباء کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب کرونا وائرس کے ویکسینز کی خبریں آ رہی تھیں تو اس ٹیکنالوجی کا ذکر بہت ہوتا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی ویکسینز سے بالکل مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ یہ ہمارے جسم کو وائرس کے پروٹین بنانے کی ہدایت دیتی ہے، جس سے ہمارا مدافعتی نظام فعال ہو جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اسے بہت تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے اور مختلف وائرسز کے لیے آسانی سے ڈھالا جا سکتا ہے۔ مجھے تو یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی لگتی ہے، جو صرف متعدی امراض ہی نہیں بلکہ کینسر اور خودکار مدافعتی بیماریوں (autoimmune diseases) کے علاج کے لیے بھی ایک نئی صبح کی نوید ہے۔ سائنسدان اب mRNA کو استعمال کرتے ہوئے فلو، ایچ آئی وی، اور حتیٰ کہ ملیریا جیسی بیماریوں کے خلاف بھی ویکسینز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ واقعی ایک گیم چینجر ہے جو ہماری زندگیوں میں بہت بڑی تبدیلیاں لائے گا۔
ذاتی نوعیت کی ویکسینز کا خواب
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر فرد کے لیے اس کی اپنی مخصوص ویکسین تیار کی جائے گی؟ مجھے تو یہ کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ لگتا تھا، مگر اب یہ خواب حقیقت بننے کے قریب ہے۔ یہ ذاتی نوعیت کی میڈیسن کا ایک حصہ ہے، جہاں علاج اور بچاؤ ہر فرد کی جینیاتی ساخت اور بیماریوں کے خطرے کے مطابق ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے لیے جو ویکسین تیار ہو گی وہ آپ کے جسم کی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین کام کرے گی۔ مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہر فرد کی صحت کا خیال اس کی انفرادی ضروریات کے مطابق رکھا جا سکے گا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کو کینسر ہو تو اس کے ٹیومر کے جینیاتی پروفائل کی بنیاد پر ایک ایسی ویکسین بنائی جا سکے گی جو صرف اس کے کینسر کے خلیوں پر حملہ کرے۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جو علاج کو زیادہ مؤثر اور ضمنی اثرات سے پاک بنا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کی گنجائش اور صلاحیت لامحدود ہے۔ میں تو اس دن کا شدت سے انتظار کر رہا ہوں جب یہ ٹیکنالوجی عام ہو گی۔
اپنے پیاروں کا تحفظ: ویکسینیشن کی اہمیت

کمیونٹی کی صحت اور ریوڑ کی قوت مدافعت
ہم سب اپنے پیاروں کے لیے اچھا چاہتے ہیں، ہے نا؟ مجھے لگتا ہے کہ ویکسینیشن صرف ہماری ذاتی صحت کے لیے نہیں، بلکہ ہماری پوری کمیونٹی کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کبھی آپ نے “ریوڑ کی قوت مدافعت” (Herd Immunity) کے بارے میں سنا ہے؟ مجھے تو یہ ایک بہت زبردست تصور لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آبادی کا ایک بڑا حصہ کسی بیماری کے خلاف ویکسین کے ذریعے محفوظ ہو جاتا ہے، تو وہ بیماری پورے معاشرے میں پھیلنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کو بھی تحفظ مل جاتا ہے جو کسی وجہ سے ویکسین نہیں لگوا سکتے، جیسے چھوٹے بچے، بہت بوڑھے افراد، یا وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ ہم سب مل کر ایک دوسرے کو بیماریوں سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داری سمجھیں اور وقت پر ویکسینیشن کروائیں تو ہم بہت سی بیماریوں کو اپنے معاشرے سے بالکل ختم کر سکتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی کوشش ہے جس کا فائدہ ہم سب کو ہوتا ہے۔ میں اپنے بچوں کو ہمیشہ وقت پر ویکسین لگواتا ہوں، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ یہ صرف ان کی صحت کے لیے نہیں بلکہ میرے ارد گرد کے لوگوں کی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
بچوں اور بڑوں کے لیے ضروری ویکسینز
کچھ ویکسینز ایسی ہیں جو ہم سب کے لیے بہت ضروری ہیں، چاہے وہ بچے ہوں یا بڑے ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو کئی ایسی بیماریوں کا خوف تھا جو آج تقریباً ختم ہو چکی ہیں، یہ سب ویکسینز کی بدولت ہے۔ بچوں کے لیے تو باقاعدہ ایک شیڈول ہوتا ہے جس کے تحت انہیں مختلف بیماریوں جیسے پولیو، خسرہ، کالی کھانسی، تشنج (Tetanus)، اور ہیپاٹائٹس بی کے خلاف ویکسینز لگوائی جاتی ہیں۔ یہ ویکسینز ان کی زندگی کے ابتدائی سالوں میں انتہائی اہم ہیں تاکہ ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہو سکے۔ لیکن یہ صرف بچوں کی بات نہیں، بڑوں کو بھی کئی ویکسینز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہر سال فلو کی ویکسین لگوانا، ہر دس سال بعد ٹیٹنس اور ڈپتھیریا کا بوسٹر لگوانا، اور عمر رسیدہ افراد کے لیے نمونیا اور شنگلز (Shingles) کی ویکسینز۔ مجھے تو یہ سب اپنی صحت کی بیمہ پالیسی جیسا لگتا ہے، جو ہمیں بیماریوں سے بچا کر ایک صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ میں آپ سب کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ویکسینیشن کے شیڈول پر عمل کریں۔ اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں کہ آپ کے لیے کون سی ویکسینز ضروری ہیں۔
غلط فہمیوں کا ازالہ: ویکسینز کے بارے میں حقائق
عام سوالات اور ان کے جوابات
مجھے اکثر لوگوں کے ایسے سوالات سننے کو ملتے ہیں جو ویکسینز کے بارے میں کچھ غلط فہمیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم صحیح معلومات حاصل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھی کوئی نئی ویکسین آتی ہے، تو طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، جن میں سے اکثر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سب سے عام سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ویکسینز محفوظ ہیں؟ اس کا سادہ جواب ہے کہ جی ہاں، ویکسینز انتہائی محفوظ ہوتی ہیں۔ ان کی تیاری اور منظوری کا عمل بہت سخت اور طویل ہوتا ہے۔ کیا ویکسینز بیماری پیدا کر سکتی ہیں؟ بہت ہی کم صورتوں میں، ویکسین کے بعد ہلکا بخار یا درد ہو سکتا ہے، لیکن یہ بیماری پیدا نہیں کرتیں، بلکہ جسم کو بیماری سے لڑنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔ کیا ویکسینز میں کوئی خطرناک کیمیکل ہوتے ہیں؟ ویکسینز میں استعمال ہونے والے تمام اجزاء کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور وہ جسم کے لیے بے ضرر ہوتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ یہ بات بری لگتی ہے جب کوئی بغیر تحقیق کے ایسی باتیں پھیلاتا ہے جس سے لوگ ویکسین لگوانے سے کتراتے ہیں۔ یہ ہماری اپنی اور دوسروں کی صحت کے ساتھ ایک بہت بڑا رسک ہے۔
قابل اعتماد معلومات کے ذرائع
جب ویکسینز اور صحت سے متعلق معلومات کی بات آتی ہے تو مجھے ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ لوگ صحیح ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ غلط معلومات ہماری صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ میں اپنی معلومات عالمی اور قومی صحت کے اداروں کی ویب سائٹس سے حاصل کروں۔ آپ عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف (UNICEF)، یا اپنے ملک کے صحت کے شعبے کی سرکاری ویب سائٹس پر قابل اعتماد معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے براہ راست بات کرنا بھی معلومات حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ جب ہم کسی بھی چیز کے بارے میں الجھن کا شکار ہوں تو ہمیشہ مستند ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ہر کوئی ڈاکٹر بنا ہوا ہے، لیکن ہمیں ان کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی صحت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں، آپ کی صحت آپ کی سب سے بڑی دولت ہے۔
| ویکسین کی قسم | یہ کیسے کام کرتی ہے؟ | کن بیماریوں سے بچاتی ہے؟ |
|---|---|---|
| زندہ لیکن کمزور ویکسین (Live-attenuated) | کمزور جراثیم جسم میں مدافعتی ردعمل پیدا کرتے ہیں۔ | خسرہ، روبیلا، ممپس، پولیو (کچھ اقسام) |
| غیر فعال ویکسین (Inactivated) | مردہ جراثیم جسم میں اینٹی باڈیز بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ | فلو، پولیو (کچھ اقسام)، ہیپاٹائٹس اے |
| سب یونٹ، ری کومبیننٹ، پولی سیکرائیڈ، کنجوگیٹ ویکسینز | جراثیم کے مخصوص پروٹین یا شکر کے حصوں سے مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ | ہیپاٹائٹس بی، کالی کھانسی، نیوموکوکل، HPV |
| ٹاکسائیڈ ویکسین (Toxoid) | بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے زہریلے مادے کو غیر فعال کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ | تشنج (Tetanus)، ڈپتھیریا |
| mRNA ویکسین | جسم کو پروٹین بنانے کی ہدایت دیتی ہے جو جراثیم سے ملتا جلتا ہو تاکہ مدافعتی ردعمل پیدا ہو۔ | کرونا وائرس، فلو (تحقیق جاری) |
صحت مند پاکستان، خوشحال پاکستان: اجتماعی ذمہ داری
ہمارا کردار: آگاہی اور عمل
مجھے پورا یقین ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ایک خوشحال قوم ہوتی ہے۔ اور اس میں ہم سب کا ایک بہت اہم کردار ہے۔ ویکسینیشن کے حوالے سے آگاہی پھیلانا اور اس پر عمل کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ویکسینز کے بارے میں غلط فہمیاں موجود ہیں۔ ہمیں اپنے اہل خانہ، دوستوں اور پڑوسیوں کو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں بتانا چاہیے اور انہیں صحیح معلومات فراہم کرنی چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں میرے والدین نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ مجھے وقت پر تمام ویکسینز لگوائی جائیں، اور آج میں اس کا فائدہ دیکھ رہا ہوں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کے لیے یہی کرنا چاہیے۔ جب ہم ایک دوسرے کو اس حوالے سے تعلیم دیتے ہیں تو ہم ایک صحت مند معاشرہ بنانے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد سے ہی ہم بیماریوں کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو نسل در نسل چلتا ہے اور ہر آنے والی نسل کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرتا ہے۔
صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت
اگر ہم واقعی ایک صحت مند اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صحت کے شعبے میں بھرپور سرمایہ کاری کرنی ہو گی۔ مجھے لگتا ہے کہ صحت پر ہونے والا خرچہ دراصل ایک سرمایہ کاری ہے، کوئی بوجھ نہیں۔ جب ہمارے لوگ صحت مند ہوں گے تو وہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکیں گے، زیادہ تعلیم حاصل کر سکیں گے اور ملک کی ترقی میں زیادہ بہتر کردار ادا کر سکیں گے۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ حکومتیں اور نجی ادارے اب ویکسین ریسرچ اور صحت عامہ کے پروگرامز میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری صرف ویکسینز کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ ہسپتالوں کی بہتری، صحت کے عملے کی تربیت، اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی ہونی چاہیے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح ایک عالمی وباء نے ہمیں صحت کے نظام کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ اگر ہم مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہو گی۔ میری نظر میں صحت مند انسان، صحت مند سوچ، صحت مند معاشرے کی کنجی ہے اور اس کے لیے سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔
글을마치며
دوستو، ویکسینز کا یہ سفر واقعی انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں دیکھا ہے کہ کیسے ان چھوٹی سی ٹیکوں نے بڑی بڑی بیماریوں کو شکست دی ہے اور لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک عملی ثبوت ہے جو ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمیں اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ ہر قسم کی بیماریوں سے پاک ہو سکے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اسی میں ہماری کامیابی ہے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ویکسینیشن شیڈول کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا نہ بھولیں تاکہ آپ کو صحیح وقت پر صحیح ویکسین ملے۔
2. اپنی ویکسینیشن کے ریکارڈز کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں، خاص کر بچوں کے لیے۔ یہ ہنگامی صورتحال میں یا سفر کے دوران بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
3. ویکسینز کے بارے میں افواہوں اور غلط معلومات سے بچیں۔ ہمیشہ عالمی ادارہ صحت (WHO) یا اپنے ملک کے صحت کے سرکاری اداروں جیسی مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
4. ریوڑ کی قوت مدافعت (Herd Immunity) کو سمجھیں۔ جب زیادہ لوگ ویکسین لگواتے ہیں، تو وہ ان لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں جو ویکسین نہیں لگوا سکتے۔ یہ ایک اجتماعی کوشش ہے۔
5. موسمی ویکسینز، جیسے فلو کا ٹیکہ، کی اہمیت کو پہچانیں۔ یہ آپ کو عام لیکن پریشان کن بیماریوں سے بچاتے ہیں اور آپ کے دفاعی نظام کو مضبوط رکھتے ہیں۔
중요 사항 정리
ویکسینز سائنس کا ایک ایسا عظیم کارنامہ ہیں جنہوں نے کئی مہلک بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے اور لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ یہ نہ صرف محفوظ اور مؤثر ہیں بلکہ ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو بیماریوں سے لڑنے کی تربیت دیتی ہیں۔ جدید mRNA ٹیکنالوجی اور کینسر پر تحقیق مستقبل کی ویکسینز کے لیے نئی امیدیں جگا رہی ہے۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ویکسینیشن کی اہمیت کو سمجھیں، غلط فہمیوں کا ازالہ کریں، اور اپنے پیاروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ صحت مند معاشرہ ہی ایک خوشحال قوم کی بنیاد ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: ویکسین ہماری صحت کے لیے اتنی ضروری کیوں ہیں اور ان کے کیا فوائد ہیں؟
ج: دیکھو میرے دوستو، ویکسین ہماری زندگیوں کا ایک بہت اہم حصہ بن چکی ہیں، شاید ہم میں سے بہت سوں کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ بچپن میں پولیو کے قطرے پیتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ہمیں ایک موذی مرض سے بچا رہے ہیں۔ آسان الفاظ میں سمجھیں تو ویکسین آپ کے جسم کے مدافعتی نظام کو بیماریوں سے لڑنے کی تربیت دیتی ہیں، بالکل ایسے جیسے ایک فوجی کو جنگ سے پہلے تربیت دی جاتی ہے۔ یہ ویکسین آپ کے جسم میں بیماری پیدا کیے بغیر اینٹی باڈیز بناتی ہیں، جس سے آپ مستقبل میں کسی خطرناک وائرس یا بیکٹیریا کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ویکسین کے فوائد صرف انفرادی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہیں۔ جب زیادہ لوگ ویکسین لگواتے ہیں، تو اسے “ہڑ امیونٹی” یا “ریوڑ کی قوت مدافعت” کہتے ہیں، یعنی کمیونٹی میں بیماری پھیلنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں، اور اس سے وہ لوگ بھی محفوظ رہتے ہیں جو کسی طبی وجہ سے ویکسین نہیں لگوا سکتے یا بہت چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔ چیچک اور پولیو جیسی خوفناک بیماریاں ویکسین کی وجہ سے ہی تقریباً ختم ہو چکی ہیں، اور ہر سال لاکھوں جانیں بچتی ہیں۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی سکون ملتا ہے کہ آج ہم ان بیماریوں سے آزاد ہیں جن سے ہمارے آباؤ اجداد کو ڈرنا پڑتا تھا۔ یہ صرف بیماری سے بچاؤ نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کی ضمانت ہے۔
س: نئی ٹیکنالوجیز ویکسین کی تحقیق کو کیسے بدل رہی ہیں، خاص کر کینسر جیسی بیماریوں کے لیے؟
ج: یہ سوال بہت دلچسپ ہے اور میں آپ کو بتاؤں، میں خود بھی اس حوالے سے بہت پرجوش ہوں۔ جس طرح دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اسی طرح ویکسین کی تحقیق میں بھی انقلاب آ رہا ہے۔ ماضی میں ویکسین بنانا ایک لمبا اور مشکل عمل ہوتا تھا، لیکن اب نئی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر بائیو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) نے اس عمل کو بہت تیز اور مؤثر بنا دیا ہے۔آپ نے mRNA ویکسینز کے بارے میں سنا ہوگا، جیسے کہ کورونا وائرس کے دوران ہم نے دیکھا۔ یہ ٹیکنالوجی ویکسین کی تیاری میں گیم چینجر ثابت ہوئی ہے۔ اب سائنسدان نہ صرف انفلوئنزا جیسی بدلتی بیماریوں کے لیے زیادہ مؤثر ویکسینز بنا رہے ہیں بلکہ کینسر جیسی لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریوں کے خلاف بھی ویکسینز پر کام ہو رہا ہے۔مجھے یاد ہے، کچھ عرصہ پہلے تک کینسر کا نام سنتے ہی ایک خوف چھا جاتا تھا۔ لیکن اب، الحمدللہ، کینسر کے علاج میں ویکسین کی تیاری ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، سروائیکل کینسر (رحم کے دہانے کے کینسر) کے لیے HPV ویکسین موجود ہے جو اسے ہونے سے روکنے میں بہت مؤثر ہے۔ سندھ حکومت نے تو 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کے لیے یہ ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، روس میں بھی کینسر کی ایک نئی ویکسین تیار ہوئی ہے جو استعمال کے لیے تیار بتائی جا رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجیز ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہی ہیں جہاں کینسر جیسی موذی بیماریاں بھی قابل علاج ہوں گی۔ یہ واقعی ایک حیران کن اور خوش آئند بات ہے۔
س: کیا ویکسین محفوظ ہیں اور ہمیں ان پر کیوں بھروسہ کرنا چاہیے؟
ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ خدشہ ہوتا ہے۔ میری رائے میں، یہ بالکل فطری ہے کہ آپ اپنی صحت اور اپنے پیاروں کی صحت کے بارے میں فکر مند ہوں۔ لیکن میں اپنے تجربے اور تحقیق کی بنیاد پر آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ویکسین انتہائی محفوظ ہیں۔یہ ایسے ہی نہیں ہے کہ کوئی بھی ویکسین بن کر بازار میں آ جائے۔ ہر ویکسین کو منظوری سے پہلے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس میں سخت جانچ اور نگرانی شامل ہے۔ یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ویکسین نہ صرف مؤثر ہو بلکہ مکمل طور پر محفوظ بھی ہو۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور دیگر عالمی ادارے ان کی حفاظت اور معیار کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔کبھی کبھار ویکسین لگوانے کے بعد ہلکے سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں، جیسے انجکشن کی جگہ پر تھوڑا درد، لالی یا ہلکا بخار۔ یہ بالکل عام بات ہے اور یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ آپ کا مدافعتی نظام کام کر رہا ہے۔ سنگین ضمنی اثرات انتہائی نایاب ہوتے ہیں، اور ویکسین کے فوائد ان کے ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ مجھے یاد ہے کووڈ 19 کے دوران ویکسین کے بارے میں کتنی افواہیں پھیلی تھیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ویکسین نے ہی ہمیں اس وبا سے نکلنے میں مدد دی۔یاد رکھیں، ویکسین ہمیں بیماریوں سے بچاتی ہیں، انہیں پھیلنے سے روکتی ہیں، اور ہمارے بچوں کے صحت مند مستقبل کی بنیاد ہیں۔ میرا آپ سب سے یہی مشورہ ہے کہ ویکسین کے بارے میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور ان پر بھروسہ کریں، کیونکہ یہ ہمارے اور ہماری کمیونٹی کے لیے بہترین ڈھال ہیں۔






